قائدِ اعظم محمد علی جناح کی کوششوں سے مسلم لیگ اور کانگریس کے درمیان معاہدہ ہوا۔ کانگریس نے مسلمانوں کے جداگانہ طریقہ انتخاب کے مطالبے کو تسلیم کر لیا۔ قائد اعظم کو "ہندو مسلم اتحاد کے سفیر" کا خطاب ملا۔
کہانی کا آغاز 1857ء کی جنگِ آزادی سے ہوتا ہے، جہاں ہندوؤں اور مسلمانوں نے مل کر برطانوی راج کے خلاف آواز بلند کی۔ جنگ میں ناکامی کے بعد مسلمانوں پر آزمائش کا وقت آیا؛ آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو جلاوطن کر دیا گیا اور مسلمانوں کو سیاسی و معاشی طور پر دیوار سے لگا دیا گیا۔ history of pakistan from 1857 to 1947 notes in urdu
نہرو رپورٹ کے جواب میں قائدِ اعظم نے مارچ ۱۹۲۹ء میں اپنے مشہور چودہ نکات پیش کیے، جو مسلمانوں کے حقوق کا احاطہ کرتے تھے اور وفاقی طرزِ حکومت کا تقاضا کرتے تھے۔ خطبہ الٰہ آباد (۱۹۳۰ء) history of pakistan from 1857 to 1947 notes in urdu
مئی 1857ء میں میرٹھ سے سپاہیوں نے برطانوی راج کے خلاف بغاوت کی۔ نتائج: history of pakistan from 1857 to 1947 notes in urdu
آخری وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے برصغیر کی تقسیم اور دو آزاد ریاستوں (بھارت اور پاکستان) کے قیام کا باقاعدہ اعلان کیا۔
انہوں نے مسلمانوں کو سیاست سے دور رہ کر پہلے جدید تعلیم اور انگریزی زبان سیکھنے کا مشورہ دیا۔
(جیسے قراردادِ پاکستان یا سرسید کی خدمات) پر مزید تفصیل چاہتے ہیں؟